Urdu Novel Halaf E Jaan Complete PDF Download By S Merwa Mirza Novels
"أعشقك انیس"
وہ بلش کرتی مسکرائی اور انیس نے تکیہ پھینک کر عرشیہ تک قدم بڑھا کر روکے تو عرشیہ دروازے سے لگی،چہرے پر ناچتی شوخی و مستی سجا رکھا تھا سب برقرار رکھنا بھول گئی۔
"آں ہاں۔۔۔
Are You Sure?"
وہ اسکی آنکھوں میں ٹھہرے یقیں کے باوجود پوچھ بیٹھا تھا،وہ جانتی تھی وہ اسے اپنے پاس کمفرٹیبل کرنے کا عادی بنا رہا ہے۔
"No, I think I’m not sure, Anees. It just happened."
وہ شرارتی مسکراہٹ لبوں پر سجاتی انیس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھے اسے خود سے پرے دھکیلتی ہنستی ہوئی دروازہ کھول کر اندر بند ہوئی تو انیس نے اس دھکے پر اپنا سینہ سہلایا،
"تمہارے اور میرے بیچ سب اچانک ہی ہوتا ہے،لُما"
وہ دروازے کے پاس مدھم سی سرگوشی کیے پلٹ کر ڈریسنگ ٹیبل تک واپس آیا،پھر اس نے عرشیہ کے بیگ کی طرف دیکھا۔
"دیکھوں تو اسکے بیگ میں کیا کیا ہے"
انیس نے وقت گزارنے کے پیش نظر عرشیہ کا بیڈ پر رکھا بیگ اٹھا کر اسے کھولتے تجسس سے خود کلامی کی،پھر اس نے عرشیہ کا بیگ وہیں چادر پر الٹا تو اسکی ہر چیز میٹرس پر بکھر گئی،وہ ہینڈ مرر،لپ ٹنٹ جو ابھی بھی عرشیہ کے ہونٹوں پر تھا،ایک لیڈیز والٹ،جس میں اسکے ضروری کارڈز اور کیش تھا،ائیر پوڈز،دو تین ائیر ہوپس کے جوڑے،ایک لائٹر۔۔۔
"لائٹر۔۔۔یہ سگریٹ تو نہیں پیتی۔آنکھیں تو ویسے ہی مدہوش ہیں اسکی،اسے کسی نشے کی کیا ضرورت"
انیس نے وہ لائٹر اپنی طرف رخ کیے آن کرنا چاہا پر لیکوڈ چیز فوارے کی صورت انیس کی سیدھی آنکھوں میں گئی،انیس نے وہ لائٹر وہیں پھینک کر کراہتے اپنی آنکھیں مسل ڈالیں،وہ لائٹر کی شیپ میں پیپر سپرے تھا اور انیس کے بری طرح آنکھوں میں ہوتی جلن پر کراہنے پر وہ جو ابھی بس شرٹ ہی اتار پائی تھی،اسے واپس پہنتی فورا سے پہلے کمرے کا دروازہ کھولے اندر آئی جہاں وہ اپنی آنکھیں زور سے مسلتا چھوٹے بچوں کی طرح درد پر کراہ رہا تھا۔
"انیس۔۔کیا ہوا؟کیوں مسل رہے ہو آنکھیں"
عرشیہ اس تک دوڑتے پہنچی مگر اس سے پہلے وہ کچھ بتاتا،عرشیہ نے اپنے بیگ کی چیزیں میٹرس پر الٹی ہوئی دیکھے اس لائٹر کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں کو آپس میں بھینچا ورنہ اسکا قہقہہ نکل آتا۔
"تمہارا لائٹر۔۔یہ تو سوچ سے زیادہ خطرناک آگ لگا بیٹھا میری آنکھوں کو۔کیا اس میں مرچیں بھری تھیں۔عرشیہ"
وہ اس کے ہاتھ کلائیوں سے پکڑے مسکراتی ہوئی اسکو یوں آنکھیں مسلنے سے روکنے لگی
"بدھو۔وہ پیپر سپرے تھا۔تمہیں کس نے کہا میرے بیگ کی تلاشی لو۔مل گیا ناں ایڈوینچر۔۔مت مسلو،جلن بڑھے گی۔آنکھوں کو دھونا ہوگا مائی لوو۔۔ ورنہ الرجک ری ایکشن ہو سکتا ہے۔ہاہا انیس تم واقعی بچے ہو"
وہ اسکو پکڑ کر زبردستی واش روم تک لائی،وہ جو مائی لوو کے سحر میں جکڑا سر سے پیر پورا ساکن ہی تو ہو چکا تھا۔



